غزوۂ بدر

”بدر ” مدینہ منورہ سے تقریباً اسّی میل کے فاصلہ پر ایک گاؤں کا نام ہےجہاں زمانۂ جاہلیت میں سالانہ میلہ لگتاتھا۔ یہاں ایک کنواں بھی تھا جس کے مالک کا نام ”بدر”تھا اسی کے نام پر اس جگہ کا نام ” بدر” رکھ دیا گیا۔ اسی مقام پر جنگ ِبدر کا وہ عظیم معرکہ ہوا جس میں کفار ِقریش اور مسلمانوں کے درمیان سخت خونریزی ہوئی اور مسلمانوں کو وہ عظیم الشان فتح مبین نصیب ہوئی جس کے بعد اسلام کی عزت و اقبال کا پرچم اتنا سر بلند ہوگیا کہ کفار قریش کی عظمت و شوکت بالکل ہی خاک میں مل گئی۔ اﷲ تعالیٰ نے جنگ بدر کے دن کا نام ”یومُ الفرقان” رکھا۔ قرآن کی سورۂ انفال میں تفصیل کے ساتھ اور دوسری سورتوں میں اجمالاً باربار اس معرکہ کا ذکر فرمایا اور اس جنگ میں مسلمانوں کی فتح مبین کے بارے میں خداوند عالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ
وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللہُ بِبَدْرٍ وَّاَنۡتُمْ اَذِلَّۃٌ ۚ فَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوۡنَ ﴿۱۲۳﴾
اوریقینا خداوند تعالیٰ نے تم لوگوں کی مدد فرمائی بدر میں جبکہ تم لوگ کمزور اور بے سروسامان تھے تو تم لوگ اﷲ سے ڈرتے رہوتاکہ تم لوگ شکر گزار ہو جاؤ۔

*جنگ بدر کا سبب

آپ ﷺ کو پتہ چلا کہ قریش کا ایک قافلہ ملک شام سے لوٹ کر مکہ جانے والا ہے او ر یہ بھی پتہ چلا کہ اس قافلہ میں ابو سفیان بن حرب و مخرمہ بن نوفل و عمرو بن العاص وغیرہ کل تیس یا چالیس آدمی ہیں اورکفار قریش کا ما ل تجارت جو اس قافلہ میں ہے وہ بہت زیادہ ہے۔حضور ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایاکہ کفار قریش کی ٹولیاں لوٹ مار کی نیت سے مدینہ کے اطراف میں برابر گشت لگاتی رہتی ہیں اور ” کر زبن جابر فہری ” مدینہ کی چراگاہوں تک آکر ڈاکہ زنی کر گیا ہے لہٰذا کیوں نہ ہم بھی کفار قریش کے اس قافلہ پر حملہ کر کے اس کو لوٹ لیں تاکہ کفار قریش کی شامی تجارت بند ہو جائے او ر وہ مجبور ہو کر ہم سے صلح کر لیں۔ حضورﷺ کا یہ ارشاد گرامی سن کر انصار و مہاجرین اس کے لیے تیار ہوگئے۔

*مدینہ سے روانگی

چنانچہ ۱۲ رمضان ۲ھ؁ کو بڑی عجلت کے ساتھ لوگ چل پڑے، جو جس حال میں تھااسی حال میں روانہ ہو گیا۔ اس لشکر میں حضور ﷺ کے ساتھ نہ زیادہ ہتھیار تھے نہ فوجی راشن کی کوئی بڑی مقدار تھی کیونکہ کسی کو گمان بھی نہ تھا کہ اس سفر میں کوئی بڑی جنگ ہوگی ۔
مگر جب مکہ میں یہ خبر پھیلی کہ مسلمان مسلح ہو کر قریش کا قافلہ لوٹنے کے لئے مدینہ سے چل پڑے ہیں تو مکہ میں ایک جوش پھیل گیا اور ایک دم کفار قریش کی فوج مسلمانوں پر حملہ کر نے کے لیے تیار ہو گئی۔جب حضور ﷺ کو اس کی اطلاع ملی توآپ نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو جمع فرماکر صورتِ حال سے آگاہ کیا اور صاف صاف فرما دیاکہ ممکن ہے کہ اس سفر میں کفارقریش کے قافلہ سے ملاقات ہوجائے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کفار مکہ کے لشکر سے جنگ کی نوبت آجائے۔ ارشاد گرامی سن کر حضرت ابو بکر صدیق و حضرت عمر فاروق اور دوسرے مہاجرین نے بڑے جوش و خروش کا اظہار کیا مگر حضورﷺ انصار کی طرف دیکھ رہے تھے
انصار میں سے قبیلۂ خزرج کے سردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حضور ﷺ کا چہرهٔ انور دیکھ کر بول اٹھے کہ یا رسول اﷲ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیا آپ کا اشارہ ہماری طرف ہے ؟خدا کی قسم!ہم وہ جاں نثارہیں کہ اگر آپ کا حکم ہو تو ہم سمندر میں کود پڑیں اسی طرح انصار کے ایک اور معزز سردار حضر ت مقدادبن اسود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جوش میں آکر عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی طرح یہ نہ کہیں گے کہ آپ اور آپ کا خدا جا کر لڑیں بلکہ ہم لوگ آپ کے دائیں سے، بائیں سے، آگے سے، پیچھے سے لڑیں گے۔ انصار کے ان دونو ں سرداروں کی تقریر سن کرحضور ﷺ کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا۔(بخاری غزوہ بدر ج۲ص۵۶۴)
مدینہ سے ایک میل دور چل کر حضور ﷺ نے اپنے لشکر کا جائزہ لیا، جو لوگ کم عمر تھے ان کو واپس کر دینے کا حکم دیا ۔مگر انہی بچوں میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے بھائی حضرت عمیر بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے۔ جب ان سے واپس ہونے کو کہا گیاتو وہ مچل گئے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے او ر کسی طرح واپس ہونے پر تیار نہ ہوئے۔ ان کی بے قراری اور گریہ و زاری دیکھ کر رحمت عالم ﷺ کا قلب نازک متاثر ہو گیااور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو ساتھ چلنے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس ننھے سپاہی کے گلے میں بھی ایک تلوار حمائل کردی ۔
مدینہ سے روانہ ہونے کے وقت نمازوں کے لئے حضرت ابن اُمِ مکتوم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو آپ ﷺ نے مسجد نبوی کا امام مقرر فرما دیا تھا لیکن جب آپ مقام ”روحا” میں پہنچے تو منافقین اور یہودیوں کی طرف سے کچھ خطرہ محسوس فرمایا اس لئے آپ ﷺ نے حضرت ابو لبابہ بن عبدالمنذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو مدینہ کا حاکم مقرر فرما کر ان کو مدینہ واپس جانے کا حکم دیا اور حضرت عاصم بن عدی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو مدینہ کے چڑھائی والے گاؤں پر نگرانی رکھنے کا حکم صادر فرمایا۔
ان انتظامات کے بعد حضورِ اکرم ﷺ ”بدر” کی جانب چل پڑے جدھر سے کفار مکہ کے آنے کی خبر تھی۔ اب کل فوج کی تعداد تین سو تیرہ تھی جن میں ساٹھ مہاجراور باقی انصار تھے۔ منزل بہ منزل سفر فرماتے ہوئے جب آپ مقام”صفرا” میں پہنچے تو دو آدمیوں کو جاسوسی کے لئے روانہ فرمایا تا کہ وہ قافلہ کا پتہ چلائیں کہ وہ کدھر ہے؟ اور کہاں تک پہنچا ہے ؟ (1) (زُرقانی ج۱ ص۴۱۱)

*ابو سفیان کی چالاکی


ادھر کفار قریش کے جاسوس بھی اپنا کام بہت مستعدی سے کر رہے تھے۔ جب حضور ﷺ مدینہ سے روانہ ہوئے تو ابو سفیان کو اس کی خبر مل گئی۔ اس نے فوراً ہی ”ضمضم بن عمرو غفاری” کو مکہ بھیجا کہ وہ قریش کو اس کی خبر کر دے تا کہ وہ اپنے قافلہ کی حفاظت کا انتظام کریں اور خود راستہ بدل کر قافلہ کو سمندر کی جانب لے کر روانہ ہو گیا۔ ابو سفیان کا قاصد ضمضم بن عمرو غفاری جب مکہ پہنچا تو اس وقت کے دستور کے مطابق کہ جب کوئی خوفناک خبر سنانی ہوتی تو خبر سنانے والا اپنے کپڑے پھاڑ کراور اونٹ کی پیٹھ پر کھڑا ہوکر چلا چلا کر خبر سنایا کرتا تھا ۔ ضمضم بن عمرو غفاری نے اپنا کرتا پھاڑ ڈالا اور اونٹ کی پیٹھ پر کھڑا ہو کر زور زور سے چلانے لگا کہ اے اہل مکہ! تمہارا سارا مال تجارت ابو سفیان کے قافلہ میں ہے اور مسلمانوں نے اس قافلہ کا راستہ روک کر قافلہ کو لوٹ لینے کا عزم کر لیا ہے لہٰذا جلدی کرو اور بہت جلد اپنے اس قافلہ کو بچانے کے لئے ہتھیار لے کر دوڑ پڑو۔(2)(زُرقانی ج۱ ص۴۱۱)

*کفار قریش کا جوش


جب مکہ میں یہ خوفناک خبر پہنچی تو اس قدر ہل چل مچ گئی کہ مکہ کا سارا امن و سکون غارت ہو گیا، تمام قبائل قریش اپنے گھروں سے نکل پڑے، سرداران مکہ میں سے صرف ابو لہب اپنی بیماری کی وجہ سے نہیں نکلا، اس کے سوا تمام روساء قریش پوری طرح مسلح ہو کر نکل پڑے کفار قریش جوش انتقام میں آپے سے باہر ہو رہے تھے۔ ایک ہزار کا لشکر جرار جس کا ہر سپاہی پوری طرح مسلح،دوہرے ہتھیار،فوج کی خوراک کا یہ انتظام تھا کہ قریش کے مالدار لوگ یعنی عباس بن عبدالمطلب،عتبہ بن ربیعہ،حارث بن عامر، نضر بن الحارث، ابو جہل،اُمیہ وغیرہ باری باری سے روزانہ دس دس اونٹ ذبح کرتے تھے اورپورے لشکر کو کھلاتے تھے عتبہ بن ربیعہ جو قریش کا سب سے بڑا رئیس اعظم تھا اس پورے لشکر کا سپہ سالار تھا۔

*کفار قریش بدر میں


کفار قریش چونکہ مسلمانوں سے پہلے بدر میں پہنچ گئے تھے اس لئے مناسب جگہوں پر ان لوگوں نے اپنا قبضہ جما لیا تھا۔ حضورﷺ جب بدر کے قریب پہنچے تو شام کے وقت حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو بدر کی طرف بھیجا تا کہ یہ لوگ کفار قریش کے بارے میں خبر لائیں۔ ان حضرات نے قریش کے دو غلاموں کو پکڑ لیا جو لشکر کفار کے لئے پانی بھرنے پر مقرر تھے۔ حضور ﷺ نے ان دونوں غلاموں سے دریافت فرمایا کہ بتاؤ اس قریشی فوج میں قریش کے سرداروں میں سے کون کون ہے؟ تو دونوں غلاموں نے بتایا کہ عتبہ بن ربیعہ،شیبہ بن ربیعہ،ابو البختر ی ،حکیم بن حزام، نوفل بن خویلد، حارث بن عامر،نضر بن الحارث، زمعہ بن الاسود، ابو جہل بن ہشام،اُمیہ بن خلف،سہیل بن عمرو، عمروبن عبدود، عباس بن عبدالمطلب وغیرہ سب اس لشکر میں موجود ہیں۔ یہ فہرست سن کر حضور ﷺ اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ مسلمانو! سن لو! مکہ نے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو تمہاری طرف ڈال دیا ہے۔ (مسلم ج۲ ص۱۰۲ غزوئہ بدر و زُرقانی وغیرہ)

*سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شب بیداری


۱۷ رمضان ۲ ھ؁ جمعہ کی رات تھی تمام فوج تو آرام و چین کی نیند سو رہی تھی مگر ایک سرورکائنات ﷺ کی ذات تھی جو ساری رات خداوند عالم سے لو لگائے دعا میں مصروف تھی۔ صبح نمودار ہوئی تو آپ ﷺنے لوگوں کو نماز کے لئے بیدار فرمایا پھر نماز کے بعد قرآن کی آیات جہاد سنا کر ایسا لرزہ خیز اور ولولہ انگیز وعظ فرمایا کہ مجاہدین اسلام کی رگوں کے خون کا قطرہ قطرہ جوش و خروش کا سمندر بن کر طوفانی موجیں مارنے لگا اور لوگ میدان جنگ کے لئے تیار ہونے لگے۔

*کون کب؟ اور کہاں مرے گا؟


رات ہی میں چند جاں نثاروں کے ساتھ آپ ﷺ نے میدان جنگ کا معائنہ فرمایا، اس وقت دست مبارک میں ایک چھڑی تھی۔ آپ اُسی چھڑی سے زمین پر لکیر بناتے تھے اور یہ فرماتے جاتے تھے کہ یہ فلاں کافر کے قتل ہونے کی جگہ ہے اور کل یہاں فلاں کافر کی لاش پڑی ہوئی ملے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جس جگہ جس کافر کی قتل گاہ بتائی تھی اس کافر کی لاش ٹھیک اسی جگہ پائی گئی ان میں سے کسی ایک نے لکیر سے بال برابر بھی تجاوز نہیں کیا۔
( صحیح مسلم،کتاب الجھادوالسیر،باب غزوۃبدر،الحدیث:۱۷۷۸،ص۹۸۱)
اس حدیث سے صاف اور صریح طورپر یہ مسئلہ ثابت ہو جاتاہے کہ کون کب؟ اور کہاں مرے گا؟ ان دونوں غیب کی باتوں کا علم اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو عطا فرمایا تھا۔

*مجاہدین کی صف آرائی


۱۷ رمضان ۲ھ؁ جمعہ کے دن حضور ﷺ نے مجاہدین اسلام کو صف بندی کا حکم دیا۔ دست مبارک میں ایک چھڑی تھی اس کے اشارہ سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم صفیں درست فرما رہے تھے کہ کوئی شخص آگے پیچھے نہ رہنے پائے اور یہ بھی حکم فرما دیا کہ بجز ذکر الٰہی کے کوئی شخص کسی قسم کا کوئی شوروغل نہ مچائے۔

*دونوں لشکر آمنے سامنے


اب وہ وقت ہے کہ میدان بدر میں حق و باطل کی دونوں صفیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہیں۔ قرآن اعلان کر رہا ہے کہ
قَدْ کَانَ لَکُمْ اٰیَۃٌ فِیۡ فِئَتَیۡنِ الْتَقَتَا ؕ فِئَۃٌ تُقَاتِلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَاُخْرٰی کَافِرَۃٌ (پ۳،اٰل عمرٰن: ۱۳)
جو لوگ باہم لڑے ان میں تمہارے لئے عبرت کا نشان ہے ایک خدا کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا منکر خدا تھا۔(آل عمران )
حضور ﷺ مجاہدین اسلام کی صف بندی سے فارغ ہو کر مجاہدین کی قرارداد کے مطابق اپنے اس چھپر میں تشریف لے گئے جس کو صحابہ کرام نے آپ کی نشست کے لئے بنا رکھا تھا۔

*دعائے نبوی


حضور سرورِ عالم ﷺ اس نازک گھڑی میں جناب باری سے لو لگائے گریہ و زاری کے ساتھ کھڑے ہو کر ہاتھ پھیلائے یہ دعا مانگ رہے تھے کہ ”خداوندا !تو نے مجھ سے جو وعدہ فرمایا ہے آج اسے پورافرما دے۔”آپ پر اس قدر رقت اور محویت طاری تھی کہ جوشِ گریہ میں چادر مبارک دوش انور سے گر گر پڑتی تھی مگر آپ کو خبر نہیں ہوتی تھی، کبھی آپ سجدہ میں سر رکھ کر اس طرح دعا مانگتے کہ ”الٰہی!اگر یہ چند نفوس ہلاک ہو گئے تو پھر قیامت تک روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والے نہ رہیں گے۔” (سیرت ابن ہشام ج۲ ص۶۲۷)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ آپ کے یارغار تھے۔ آپ کو اس طرح بے قرار دیکھ کر ان کے دل کا سکون و قرار جاتا رہا اور ان پر رقت طاری ہو گئی اور انہوں نے چادر مبارک کو اٹھا کر آپ کے مقدس کندھے پر ڈال دی اور آپ کا دست مبارک تھام کر بھرائی ہوئی آواز میں بڑے ادب کے ساتھ عرض کیا کہ حضور! اب بس کیجیے خدا ضرور اپنا وعدہ پورا فرمائے گا۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بات مان کر آپ ﷺ نے دعا ختم کر دی اور آپ کی زبان مبارک پر اس آیت کا ورد جاری ہو گیا کہ
سَیُہۡزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ ﴿۴۵﴾ (پ۲۷، القمر:۴۵)
عنقریب (کفارکی) فوج کو شکست دے دی جائیگی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔
آپ اس آیت کو بار بار پڑھتے رہے جس میں فتح مبین کی بشارت کی طرف اشارہ تھا۔

*لڑائی کس طرح شروع ہوئی


جنگ کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ سب سے پہلے عامر بن الحضرمی جو اپنے مقتول بھائی عمرو بن الحضرمی کے خون کا بدلہ لینے کے لئے بے قرار تھا جنگ کے لئے آگے بڑھا اس کے مقابلہ کے لئے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے غلام حضرت مہجع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ میدان میں نکلے اور لڑتے ہوئے شہادت سے سرفراز ہو گئے۔ پھر حضرت حارثہ بن سراقہ انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حوض سے پانی پی رہے تھے کہ ناگہاں ان کو کفار کا ایک تیر لگا اور وہ شہید ہو گئے۔(1) (سیرت ابن ہشام ج۲ ص۶۲۷)

*کفار کا سپہ سالار مارا گیا


کفار کا سپہ سالار عتبہ بن ربیعہ اپنے سینہ پر شتر مرغ کا پر لگائے ہوئے اپنے بھائی شیبہ بن ربیعہ اور اپنے بیٹے ولید بن عتبہ کو ساتھ لے کر غصہ میں بھرا ہوا اپنی صف سے نکل کر مقابلہ کی دعوت دینے لگا۔ اسلامی صفوں میں سے حضرت عوف و حضرت معاذو عبداﷲ بن رواحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم مقابلہ کو نکلے۔ عتبہ نے ان لوگوں کا نام و نسب پوچھا، جب معلوم ہوا کہ یہ لوگ انصاری ہیں تو عتبہ نے کہا کہ ہم کو تم لوگوں سے کوئی غرض نہیں۔ پھر عتبہ نے چلا کر کہا اے محمد( ﷺ) یہ لوگ ہمارے جوڑ کے نہیں ہیں اشراف قریش کو ہم سے لڑنے کے لئے میدان میں بھیجئے۔ حضور ﷺ نے حضرت حمزہ و حضرت علی و حضرت عبیدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو حکم دیا کہ آپ لوگ ان تینوں کے مقابلہ کے لئے نکلیں۔ چنانچہ یہ تینوں بہادران اسلام میدان میں نکلے۔ چونکہ یہ تینوں حضرات سر پر خود پہنے ہوئے تھے جس سے ان کے چہرے چھپ گئے تھے اس لئے عتبہ نے ان حضرات کو نہیں پہچانا اور پوچھا کہ تم کون لوگ ہو؟ جب ان تینوں نے اپنے اپنے نام و نسب بتائے تو عتبہ نے کہا کہ ”ہاں اب ہمارا جوڑ ہے” جب ان لوگوں میں جنگ شروع ہوئی تو حضرت حمزہ و حضرت علی و حضرت عبیدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے اپنی ایمانی شجاعت کا ایسا مظاہرہ کیا کہ بدر کی زمین دہل گئی اور کفار کے دل تھرا گئے اور ان کی جنگ کا انجام یہ ہوا کہ حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عتبہ کا مقابلہ کیا، دونوں انتہائی بہادری کے ساتھ لڑتے رہے مگر آخر کار حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنی تلوار کے وار سے مار مار کر عتبہ کو زمین پر ڈھیر کر دیا۔ ولید نے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے جنگ کی،دونوں نے ایک دوسرے پر بڑھ بڑھ کر قاتلانہ حملہ کیا اور خوب لڑے لیکن اسد اﷲ الغالب کی ذوالفقار نے ولید کو مار گرایااور وہ ذلت کے ساتھ قتل ہو گیا۔ مگر عتبہ کے بھائی شیبہ نے حضرت عبیدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اس طرح زخمی کر دیا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لا کر زمین پر بیٹھ گئے۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جھپٹے اور آگے بڑھ کر شیبہ کو قتل کر دیااور حضرت عبیدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اپنے کاندھے پر اٹھا کر بارگاہ رسالت میں لائے، ان کی پنڈلی ٹوٹ کر چور چور ہو گئی تھی اور نلی کا گودابہہ رہا تھا، اس حالت میں عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیا میں شہادت سے محروم رہا؟ ارشاد فرمایا کہ نہیں ہر گز نہیں! بلکہ تم شہادت سے سرفراز ہو گئے۔ (المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی ، غزوۃ بدرالکبریٰ، ۲،ص۲۷۳،۲۷۶)

*ابو جہل کا عبرتناک انجام


حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں صف میں کھڑا تھا اور میرے دائیں بائیں دو نو عمر لڑکے کھڑے تھے۔ ایک نے چپکے سے پوچھا کہ چچا جان!کیا آپ ابو جہل کو پہچانتے ہیں؟ میں نے اس سے کہا کہ کیوں بھتیجے! تم کو ابو جہل سے کیا کام ہے؟ اس نے کہا کہ چچا جان!میں نے خدا سے یہ عہد کیا ہے کہ میں ابو جہل کوجہاں دیکھ لوں گا یا تو اس کو قتل کر دوں گا یا خود لڑتا ہوا مارا جاؤں گا کیونکہ وہ اﷲ کےرسول ﷺکا بہت ہی بڑا دشمن ہے۔ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں حیرت سے اس نوجوان کا منہ تاک رہا تھا کہ دوسرے نوجوان نے بھی مجھ سے یہی کہا اتنے میں ابوجہل تلوار گھماتا ہوا سامنے آ گیا اور میں نے اشارہ سے بتادیا کہ ابو جہل یہی ہے، بس پھر کیا تھا یہ دونوں لڑکے تلواریں لے کر اس پر اس طرح جھپٹے جس طرح باز اپنے شکار پر جھپٹتا ہے۔ دونوں نے اپنی تلواروں سے مار مار کر ابو جہل کو زمین پر ڈھیر کر دیا۔ یہ دونوں لڑکے حضرت معوذاور حضرت معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما تھے جو ”عفراء” کے بیٹے تھے۔ ابو جہل کے بیٹے عکرمہ نے اپنے باپ کے قاتل حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر حملہ کر دیا اور پیچھے سے ان کے بائیں شانہ پر تلوار ماری جس سے ان کا بازو کٹ گیا لیکن تھوڑا سا چمڑا باقی رہ گیااور ہاتھ لٹکنے لگا ۔حضرت معاذرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عکرمہ کا پیچھا کیااور دور تک دوڑایا مگر عکرمہ بھاگ کر بچ نکلا۔ حضرت معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اس حالت میں بھی لڑتے رہے لیکن کٹے ہوئے ہاتھ کے لٹکنے سے زحمت ہو رہی تھی تو انہوں نے اپنے کٹے ہوئے ہاتھ کو پاؤں سے دبا کر اس زور سے کھینچا کہ تسمہ الگ ہو گیااور پھر وہ آزاد ہو کر ایک ہاتھ سے لڑتے رہے۔ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ابو جہل کے پاس سے گزرے، اس وقت ابو جہل میں کچھ کچھ زندگی کی رمق باقی تھی۔ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس کی گردن کو اپنے پاؤں سے روند کر فرمایا کہ ”تو ہی ابو جہل ہے! بتا آج تجھے اﷲ نے کیسا رسوا کیا۔” ابو جہل نے اس حالت میں بھی گھمنڈ کے ساتھ یہ کہا کہ تمہارے لئے یہ کوئی بڑا کارنامہ نہیں ہے میرا قتل ہو جانا اس سے زیادہ نہیں ہے کہ ایک آدمی کو اس کی قوم نے قتل کر دیا۔ ہاں!مجھے اس کا افسوس ہے کہ کاش!مجھے کسانوں کے سوا کوئی دوسرا شخص قتل کرتا۔ حضرت معوذ اورحضرت معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما چونکہ یہ دونوں انصاری تھے اور انصار کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے اور قبیلۂ قریش کے لوگ کسانوں کو بڑی حقارت کی نظر سے دیکھا کرتے تھے اس لئے ابو جہل نے کسانوں کے ہاتھ سے قتل ہونے کو اپنے لئے قابل افسوس بتایا۔
جنگ ختم ہو جانے کے بعد حضورِ اکرم ﷺ حضرت عبداﷲ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ساتھ لے کر جب ابو جہل کی لاش کے پاس سے گزرے تو لاش کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ ابو جہل اس زمانے کا ”فرعون” تھا۔ (بخاری غزوه بدر و دلائل النبوۃ ج۲ ص۱۷۳)

*اُمیّہ کی ہلاکت
اُمیہ بن خلف بہت ہی بڑا دشمن رسول تھا۔ جنگ بدر میں جب کفر و اسلام کے دونوں لشکر گتھم گتھا ہو گئے تو اُمیہ اپنے پرانے تعلقات کی بنا پر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے چمٹ گیا کہ میری جان بچائیے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو رحم آ گیا اور آپ نے چاہا کہ اُمیہ بچ کر نکل بھاگے مگر حضرت بلال رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اُمیہ کو دیکھ لیا ۔حضرت بلال رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جب اُمیہ کے غلام تھے تو اُمیہ نے ان کو بہت زیادہ ستایا تھا اس لئے جوشِ انتقام میں حضرت بلال رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے انصار کو پکارا، انصاری لوگ دفعۃً ٹوٹ پڑے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اُمیہ سے کہا کہ تم زمین پر لیٹ جاؤ وہ لیٹ گیا تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اس کو بچانے کے لئے اس کے اوپر لیٹ کر اس کو چھپانے لگے لیکن حضرت بلال اور انصار رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے ان کی ٹانگوں کے اندر ہاتھ ڈال کر اور بغل سے تلوار گھونپ گھونپ کر اس کو قتل کر دیا۔(بخاری ج۱ ص۳۰۸)

*فرشتوں کی فوج
جنگ بدر میں اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کے لئے آسمان سے فرشتوں کا لشکر اتار دیا تھا۔ پہلے ایک ہزار فرشتے آئے پھر تین ہزار ہو گئے اس کے بعد پانچ ہزار ہو گئے۔ جب خوب گھمسان کارن پڑا تو فرشتے کسی کو نظر نہیں آتے تھے مگر ان کی ضرب کے اثرات صاف نظر آتے تھے۔ بعض کافروں کی ناک اور منہ پر کوڑوں کی مار کا نشان پایا جاتا تھا، کہیں بغیر تلوار مارے سر کٹ کر گرتا نظر آتا تھا، یہ آسمان سے آنے والے فرشتوں کی فوج کے کارنامے تھے۔

*کفار نے ہتھیار ڈال دئیے
عتبہ، شیبہ، ابو جہل وغیرہ کفار قریش کے سرداروں کی ہلاکت سے کفار مکہ کی کمر ٹوٹ گئی اور ان کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ ہتھیار ڈال کر بھاگ کھڑے ہوئے اور مسلمانوں نے ان لوگوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔
اس جنگ میں کفار کے ستر آدمی قتل اور ستر آدمی گرفتار ہوئے۔ باقی اپنا سامان چھوڑ کر فرار ہو گئے اس جنگ میں کفارِ مکہ کو ایسی زبردست شکست ہوئی کہ ان کی عسکری طاقت ہی فنا ہو گئی۔ کفار قریش کے بڑے بڑے نامور سردار جو بہادری اور فن سپہ گری میں یکتائے روزگار تھے ایک ایک کرکے سب موت کے گھاٹ اتار دئیے گئے۔ ان ناموروں میں عتبہ، شیبہ،ابو جہل، ابو البختری، زمعہ،عاص بن ہشام، اُمیہ بن خلف، منبہ بن الحجاج، عقبہ بن ابی معیط، نضر بن الحارث وغیرہ قریش کے سرتاج تھے یہ سب مارے گئے۔

*شہداءے بدر


جنگ ِ بدر میں کل چودہ مسلمان شہادت سے سرفراز ہوئے جن میں سے چھ مہاجر اور آٹھ انصار تھے۔ شہداء مہاجرین کے نام یہ ہیں: (۱) حضرت عبیدہ بن الحارث(۲)حضرت عمیر بن ابی وقاص(۳)حضرت ذوالشمالین عمیر بن عبد عمرو (۴) حضرت عاقل بن ابی بکیر(۵) حضرت مہجع(۶) حضرت صفوان بن بیضاء اور انصار کے ناموں کی فہرست یہ ہے۔(۷)حضرت سعد بن خیثمہ(۸)حضرت مبشر بن عبدالمنذر(۹)حضرت حارثہ بن سراقہ(۱۰)حضرت معوذ بن عفراء (۱۱) حضرت عمیر بن حمام (۱۲) حضرت رافع بن معلی (۱۳)حضرت عوف بن عفراء (۱۴)حضرت یزید بن حارث۔ (2) رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین( زُرقانی ج۱ ص ۴۴۴ و ص۴۴۵)
ان شہداء بدر میں سے تیرہ حضرات تو میدان بدر ہی میں مدفون ہوئے مگر حضرت عبیدہ بن حارث رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے چونکہ بدر سے واپسی پر منزل ”صفراء”میں وفات پائی اس لئے ان کی قبر شریف منزل ”صفراء” میں ہے۔ (زُرقانی ج۱ ص۴۴۵)

*کفار کی لاشوں سے خطاب


جب کفار کی لاشیں بدر کے گڑھے میں ڈال دی گئیں تو حضور سرور عالم ﷺ نے اس گڑھے کے کنارے کھڑے ہو کر مقتولین کا نام لے کر اس طرح پکارا کہ اے عتبہ بن ربیعہ!اے شیبہ بن ربیعہ!اے فلاں!اے فلاں!کیا تم لوگوں نے اپنے رب کے وعدہ کو سچا پایا؟ ہم نے تو اپنے رب کے وعدہ کو بالکل ٹھیک ٹھیک سچ پایا۔ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جب دیکھا کہ حضور ﷺ کفار کی لاشوں سے خطاب فرما رہے ہیں توان کو بڑا تعجب ہوا۔ چنانچہ انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیا آپ ان بے روح کے جسموں سے کلام فرما رہے ہیں؟یہ سن کر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے عمر! قسم خدا کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کہ تم(زندہ لوگ) میری بات کو ان سے زیادہ نہیں سن سکتے لیکن اتنی بات ہے کہ یہ مردے جواب نہیں دے سکتے۔(بخاری ج۱ ص۱۸۳، باب ماجاء فی عذاب القبر و بخاری ج۲ ص۵۶۶)

*ضروری تنبیہ


بخاری شریف کی اس حدیث سے یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے کہ جب کفار کے مردے زندوں کی بات سنتے ہیں تو پھر مومنین خصوصاً اولیاء، شہداء،انبیاء علیہم السلام وفات کے بعد یقینا ہم زندوں کا سلام و کلام اور ہماری فریادیں سنتے ہیں اور حضور ﷺ نے جب کفار کی مردہ لاشوں کو پکارا توپھر خدا کے برگزیدہ بندوں یعنی ولیوں، شہیدوں اور نبیوں کو ان کی وفات کے بعد پکارنا بھلا کیوں نہ جائز و درست ہوگا؟ اسی لئے تو حضورِ اکرم ﷺ جب مدینہ کے قبرستان میں تشریف لے جاتے تو قبروں کی طرف اپنا رخِ انور کرکے یوں فرماتے کہاَ السَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا اَھْلَ الْقُبُوْرِ یَغْفِرُ اللہُ لَنَا وَلَکُمْ اَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالْاَ ثَرِ(مشکوٰۃ باب زیارۃ القبورص۱۵۴)
یعنی ”اے قبر والو!تم پر سلام ہو خدا ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے، تم لوگ ہم سے پہلے چلے گئے اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں۔” اور حضور ﷺ نے اپنی امت کو بھی یہی حکم دیا ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو اس کی تعلیم دیتے تھے کہ جب تم لوگ قبروں کی زیارت کے لئے جاؤ تو اسی طرح سلام کیا کرو۔ان حدیثوں سے ظاہر ہے کہ مردے زندوں کا سلام و کلام سنتے ہیں ورنہ ظاہر ہے کہ جو لوگ سنتے ہی نہیں ان کو سلام کرنے سے کیا حاصل ؟

*مدینہ کو واپسی


فتح کے بعد تین دن تک حضور ﷺ نے ”بدر” میں قیام فرمایا پھر تمام اموال غنیمت اور کفار قیدیوں کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ جب ”وادی صفرا” میں پہنچے تو اموالِ غنیمت کو مجاہدین کے درمیان تقسیم فرمایا۔

*قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک


کفار مکہ جب اسیران جنگ بن کر مدینہ میں آئے توان کو دیکھنے کے لئے بہت بڑا مجمع اکٹھا ہو گیا اور لوگ ان کو دیکھ کر کچھ نہ کچھ بولتے رہے۔ ان قیدیوں کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ میں تقسیم فرما دیا اور یہ حکم دیا کہ ان قیدیوں کو آرام کے ساتھ رکھا جائے۔ چنانچہ دودو،چار چار قیدی صحابہ کے گھروں میں رہنے لگے اور صحابہ نے ان لوگوں کے ساتھ یہ حسن سلوک کیا کہ ان لوگوں کو گوشت روٹی وغیرہ حسب مقدور بہترین کھانا کھلاتے تھے اور خود کھجوریں کھا کر رہ جاتے تھے۔(ابن ہشام ج ۲ ص ۶۴۶)
ان قیدیوں کے بارے میں حضور ﷺ نے حضرات صحابہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے مشورہ فرمایا کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ رائے دی کہ اِن سب دشمنانِ اسلام کو قتل کر دینا چاہیے اور ہم میں سے ہر شخص اپنے اپنے قریبی رشتہ دار کو اپنی تلوار سے قتل کرے۔ مگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ مشورہ دیا کہ آخر یہ سب لوگ اپنے عزیز و اقارب ہی ہیں لہٰذا انہیں قتل نہ کیا جائے بلکہ ان لوگوں سے بطور فدیہ کچھ رقم لے کر ان سب کو رہا کر دیا جائے۔ اس وقت مسلمانوں کی مالی حالت بہت کمزور ہے فدیہ کی رقم سے مسلمانوں کی مالی امداد کا سامان بھی ہو جائے گا اور شاید آئندہ اﷲ تعالیٰ ان لوگوں کو اسلام کی توفیق نصیب فرمائے۔ حضور رحمت عالم ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی سنجیدہ رائے کو پسند فرمایا اور ان قیدیوں سے چارچار ہزار درہم فدیہ لے کر ان لوگوں کو چھوڑ دیا۔ جو لوگ مفلسی کی و جہ سے فدیہ نہیں دے سکتے تھے وہ یوں ہی بلا فدیہ چھوڑ دئیے گئے۔ان قیدیوں میں جو لوگ لکھنا جانتے تھے ان میں سے ہر ایک کا فدیہ یہ تھا کہ وہ انصار کے دس لڑکوں کو لکھنا سکھا دیں۔ (ابن ہشام ج۲ ص۶۴۶)
یہ اسلام اور مسلمانوں کی پہلی جنگ کے مختصرحالات ہیں۔ جنگ بدر میں عظیم الشان فتح کے بعد مسلمانوں کے حوصلے مزید بلند ہوگئے اور دشمنان اسلام پر انکا رعب و دبدبہ قائم ہوگیا